مرشد کامل کی صرف توجہ ہی خلقت کے دلوں کو بدلنے کے لیے کافی ہے اگر وہ اس کا ارادہ فرما لے لیکن فرمانِ حق تعالیٰ ترجمہ:’’اللہ اس قوم کی حالت نہیں بدلتا جسے خود اپنی حالت بدلنے کا خیال نہ ہو‘‘ کے مطابق وہ اپنی توجہ کا کرم صرف ان طالبانِ مولیٰ پر کرتا ہے جو اس توجہ کے طالب ہوتے ہیں اور اس کے فیضِ کرم سے اپنی باطنی حالت کو بہتر بنانا چاہتے ہیں۔
حضور غوث الاعظم رضی اللہ عنہٗ نے بغداد سے باہر ویران برج میں کئی سال چلہ کشی کی۔ آخری چلہ کشی کے دوران عہد کیا کہ جب تک اللہ خود مجھے نہیں کھلائے گانہیں کھاؤں گا اور پھر چالیس دن تک کچھ نہ کھایا۔ آخر کار شہر بغداد کے مشہور صاحبِ طریقت بزرگ قاضی القضاء شیخ ابو سعید مبارک مخزومی رحمتہ اللہ علیہ تشریف لائے اور اپنے دستِ مبارک سے انہیں کھانا کھلایا۔ سیّدنا غوث پاک رضی اللہ عنہٗ فرماتے ہیں ’’شیخ کے ہاتھ سے جولقمہ میرے منہ میں جاتا تھا اس سے میرے دل میں نورِ بصیرت پیداہوتا تھا‘‘۔ یعنی کئی سال کی چلہ کشی کا وہ اثر نہ ہوا جو شیخ کی ایک مہربانی سے ہوا۔
’’عین الفقر‘‘ میں حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ :
* مرشد توفیقِ الٰہی کا نام ہے۔ جب تک توفیقِ الٰہی شاملِ حال نہ ہو کوئی کام تکمیل نہیں پاتا۔ مرشد کامل کے بغیر اگر تُو ساری زندگی اپنا سر ریاضت کے پتھر سے ٹکراتا رہے تو کوئی فائدہ نہ ہوگا کہ بے پیرو مرشد کوئی شخص اللہ تک نہیں پہنچ سکتا۔
* تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ صاحبِ راز (مرشد کامل) کے سینے میں ہے کیونکہ قدرتِ توحید اور دریائے وحدتِ الٰہی مومن کے دل میں سمائی ہوئی ہے۔ اس لیے جو شخص حق حاصل کرنا چاہتا ہے اور واصل باللہ ہونا چاہتا ہے اسے چاہیے کہ سب سے پہلے مرشد کامل اکمل کی طلب کرے اس لیے کہ مرشدِ کامل اکمل دلوں کے خزانوں کا مالک ہے۔ جو شخص اپنے دل کا محرم ہو جاتا ہے وہ دیدارِ الٰہی کی نعمت سے محروم نہیں رہتا۔
